Breaking News
Home / پاکستان / ہم عمران خان کی حکومت گرانے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں ، مگر پہلے اگلے الیکشن کے لیے ہماری ٹکٹیں کنفرم کرو ۔۔۔۔۔ مسلم لیگ (ن) کو تحریک انصاف کے کن ارکان اسمبلی نے یہ آفر کروا دی ؟ سیاسی میدان پھر گرم

ہم عمران خان کی حکومت گرانے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں ، مگر پہلے اگلے الیکشن کے لیے ہماری ٹکٹیں کنفرم کرو ۔۔۔۔۔ مسلم لیگ (ن) کو تحریک انصاف کے کن ارکان اسمبلی نے یہ آفر کروا دی ؟ سیاسی میدان پھر گرم

لاہور (ویب ڈیسک) بعض دوست یہ سوال کرتے ہیں بچت کیسے ہو سکتی ہے۔ اس کا جواب نہایت سادہ ہے اور یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے اس کا جواب صرف اور صرف کارکردگی میں بہتری اور عوامی مسائل کا حل ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے وزراء سنجیدہ ہو جائیں، عمران خان اپنی ٹیم میں

سلجھے ہوئے سمجھدار اور قابل افراد کو شامل کریں نامور کالم نگار محمد اکرم چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے افراد جن کی زبان کم اور دماغ زیادہ چلے، ایسے افراد جو عوامی مسائل حل کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں، شعور رکھتے ہوں، کام کرنے کی لگن ہو، دفتر کھانے اور سونے کے بجائے کام کرنے آئیں تو کارکردگی بھی بہتر ہو گی عوام کے مسائل بھی حل ہوں گے اور مائنس تین سو بیالیس کے راستے میں سپیڈ بریکر آ جائے گا اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر سب مائنس ہوں گے اور اس کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ جو حکومت لگ بھگ دو سال تک بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہو اس کے بعد بھی ان سے بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔یہاں بعض حلقوں کا یہ خیال ہے کہ پی ٹی آئی سے پہلے دونوں جماعتوں نے تو بڑی کارکردگی دکھائی ہے یہ فلسفہ درست نہیں آج جو کچھ ہو رہا ہے یہ ان کا ہی کیا دھرا ہے۔ دس سال کی تباہ کن جمہوریت میں دو سال موجودہ حکومت کے بھی شامل کر لیے جائیں تو یہ بارہ سال پاکستان کی تاریخ پر بھاری ہیں۔ داغدار، کرپشن، میرٹ کے قتل عام اور قرضوں سے بھرے ماضی کے ساتھ مستقبل روشن کیسے ہو سکتا ہے۔یوں کارکردگی کے اس حمام میں سب ننگے ہیں اور سب کو اپنی اپنی کارکردگی کا بہت اچھی طرح علم ہے۔جے آئی ٹی پر ہی سیاست دانوں کا رد عمل دیکھ لیں ایک دوسرے کی کھال نوچ رہے ہیں۔ الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے بجائے یہ عوام کے ساتھ بھی کھڑے ہو سکتے تھے،

عام آدمی کے لیے کیے گئے اقدامات بھی گنوا سکتے تھے، عوام کی بہتری کے لیے بھی وقت خرچ کر سکتے تھے لیکن ان کا مقصد عوام کی فلاح نہیں، عوامی مسائل ان کی ترجیح نہیں۔ ان کا مقصد ایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہے ایک دوسرے کو جھوٹا ثابت کرنا ہے اور وہ یہ کام بخوبی کر رہے ہیں۔ جنہوں نے ووٹ ڈالا ہے وہ بھاڑ میں جائیں۔ یہی صورتحال پاکستان مسلم لیگ نواز کا ہے اگر وہ ملک کو اچھی معاشی حالت میں چھوڑ کر جاتے تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ وہ ایک ایسی عمارت چھوڑ کر گئے ہیں جس کی انہیں امید تھی کہ دھکا دیں گے اور دھڑام سے گھر جائے گی اور وہ دوبارہ آ کر تعمیر شروع کر دیں گے۔ انہیں بھی اپنے علاوہ کوئی پسند نہیں وہ بھی چاہتے ہیں کہ ہمیشہ اقتدار میں رہیں۔ یہی حال مولانا فضل الرحمن کا ہے ان کا بھی مسئلہ مسلسل اقتدار ہے وہ ہر وقت اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔,یہ سارا کھیل طاقت اور دولت کا ہے۔ اس میں کہیں دور دور بھی عوام کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ہمارے مسائل کیا ہیں، ہمارے مسائل بڑے بڑے منصوبوں کی کمی یا ترقیاتی منصوبے نہیں ہیں۔ ہمارے بنیادی مسائل اچھی خوراک، اچھی صحت اور اچھی تعلیم کے ہیں۔ عمران خان ماضی میں تقریریں کرتے اور کہتے تھے کہ لوگوں کو اچھی صحت، اچھی تعلیم، اچھا ماحول اور پرامن زندگی دے دی جائے تو اس ملک کے عوام بہترین پاکستانی اور کامیاب شہری بن سکتے ہیں۔وہ خود کہا کرتے تھے کہ اس ملک کو موٹر ویز اور بی آر ٹیز کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے مسائل بنیادی سہولیات کی کمی ہے تو اب وہ وزیراعظم ہیں اور کچھ نہیں تو کم از کم یہ سہولیات ہی عوام تک پہنچا دیں تاکہ عام آدمی کو پتہ لگے کہ سیاست دان جو کہتے ہیں وہ کرتے بھی ہیں لیکن شاید یہ بھی ممکن نہیں ہے۔ بدقسمتی سے ان بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے نہ ماضی میں کچھ ہوا نہ اس حکومت نے کچھ کیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے اراکین اسمبلی اور کچھ اتحادیوں نے پاکستان مسلم لیگ ن سے رابطہ کیا ہے اور انہیں پیشکش کی ہے کہ اگر وہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرتے ہیں تو وہ ن لیگ کا ساتھ دیں گے لیکن اس شرط پر کہ اگر حکومت جاتی ہے نئے انتخابات ہوتے ہیں تو پھر انہیں عام انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹ جاری کیے جائیں گے۔ ان اراکین نے کہا ہے کہ ہم تحریک عدم اعتماد کے بعد رکنیت چھوڑ دیں گے اور نیا الیکشن آپ کے ساتھ لڑیں گے۔ ایسے لوگوں کی اکثریت کا رابطہ رانا ثناء اللہ کے ساتھ ہے۔ سنٹرل پنجاب کے چند ایم پی ایز نے بھی رانا ثناء اللہ کے ساتھ رابطہ کیا ہے۔

Share

About admin

Check Also

کل 20 اکتوبر پورے ملک میں کیا ہونے جا رہا ہے حکومت کو اب تک کا بڑا اور ۔۔فیصلہ کن جھٹکا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کل 20 اکتوبر پورے ملک میں کیا ہونے جا رہا ہے حکومت …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com