Home / پاکستان / پارٹی ممبرز کی عسکری یا ایجنسیوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں

پارٹی ممبرز کی عسکری یا ایجنسیوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں

کوئی پارٹی رکن عسکری یا ایجنسیوں کے نمائندوں سے خفیہ ملاقات نہیں کرے، نوازشریف

قومی سلامتی کے تناظر میں ضروری ملاقات باقاعدہ اجازت کے بعد اعلانیہ کی جائےگی، حالیہ واقعات سے ثابت ہوا کہ کچھ ملاقاتیں سات پردوں میں چھپی رہتی جبکہ بعض کی مرضی سے تشہیر کی جاتی ہے۔ قائد ن لیگ سابق وزیر اعظم کا ٹویٹ
لاہور ( 24 ستمبر2020ء) مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نوازشریف نے پارٹی رہنماؤں کو انفرادی یا اجتماعی سطح پرعسکری یا ایجنسیوں کے نمائندوں سے ملاقات نہیں کرے گا، قومی سلامتی یا آئینی تقاضوں کیلئے ضروری ملاقات پارٹی قیادت کی اجازت کے بعد اعلانیہ کی جائے گی، کسی ملاقات کو خفیہ نہیں رکھا جائے گا۔ حالیہ واقعات سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ کس طرح بعض ملاقاتیں سات پردوں میں چھپی رہتی اور کس طرح بعض کی تشہیر کر کے مرضی کے معنی پہنائے جاتے ہیں۔
یہ کھیل اب بند ہوجانا چاہئے۔ نوازشریف نے کہا کہ آج میں اپنی جماعت کو ہدایات جاری کررہا ہوں کہ آئین پاکستان کے تقاضوں اور خود مسلح افواج کو اپنے حلف کی پاسداری یاد کرانے کیلئے آئندہ ہماری جماعت کا کوئی رکن، انفرادی، جماعتی یا ذاتی سطح پر عسکری اور متعلقہ ایجنسیوں کے نمائندوں سے ملاقات نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ قومی دفاع اور آئینی تقاضوں کے لئے ضروری ہوا تو جماعتی قیادت کی منظوری کے ساتھ ایسی ہر ملاقات اعلانیہ ہوگی اور اس کو خفیہ نہیں رکھا جائے گا۔
واضح رہے مسلم لیگ (ن ) کے رہنماء اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے آرمی چیف سے ہونے والی دو ملاقاتوں کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ آرمی چیف سے ملاقات میں کھانے کے دوران سیاست پر بھی بات ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات طویل تھی جس میں نوازشریف اور مریم نواز کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔
محمد زبیر نے بتایا کہ مریم نواز اور نوازشریف کے حوالے سے جب گفتگو کی تو آرمی چیف نے کہا قانونی معاملات عدالت کو دیکھنے چاہئیں۔ ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اس قسم کی ملاقاتیں خفیہ ہوتی ہیں، اس لیے میں نے کسی سے کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ محمد زبیر نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرباجوہ سے 40 سال پرانے تعلقات ہیں۔ ان سے اسد عمر کے بیٹے کے ولیمے میں ملاقات ہوئی تو آرمی چیف نے کہا اسلام آبادآئیں ملاقات کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں میں نوازشریف اور مریم نواز سے متعلق گفتگو ہوئی مگر کوئی ریلیف نہیں مانگا۔ اس طرح کی مٹینگز میں سیاسی بات چیت بھی ہوجاتی ہے‘۔ محمد زبیر نے بتایا کہ دوسری ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود تھے۔

Share

About admin

Check Also

کل 20 اکتوبر پورے ملک میں کیا ہونے جا رہا ہے حکومت کو اب تک کا بڑا اور ۔۔فیصلہ کن جھٹکا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کل 20 اکتوبر پورے ملک میں کیا ہونے جا رہا ہے حکومت …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com