Breaking News
Home / دلچسپ و عجیب / چترال کی لڑکیوں سے شادی کیوں کی جاتی

چترال کی لڑکیوں سے شادی کیوں کی جاتی

ٹونٹی فور سیون ڈیلی نیوز! کی دہائی میں پنجاب سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں مردحضرات کے چترالی خواتین کیساتھ شادی کےرجحان میں اضافہ دیکھا گیا جس کی بڑی وجہ سے چترال میں شادی کیلئے کسی قسم کی کوئی جانچ پڑتال وغیرہ نہ تھی۔ یعنی کوئی بھی مرد خود کو اعلیٰ سرکاری افسریا مالدار ظاہر کر کے چترالی خواتین کیساتھ شادی کر سکتا تھا۔

اس دوران کئی ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے اور پھر چترال میں غیر مقامی افراد کیساتھ چترالی خواتین کی شادی پر شرائط عائد کر دی گئیں۔ چترال میں زیادہ تر آبادی کم تعلیم یافتہ اور غریب تھی ، وہاں کے رسم و کے مطابق لڑکی کے والدین رشتہ طلب کرنے والے لڑکے سے رقم کا بھی مطالبہ کرتے تھے جس کے بعد اس کا نکاح لڑکے کے ساتھ کر دیا جاتا تھا۔ لڑکی کے عوض رقم ادا کرنے پر کئی مرد حضرات اسے اپنی جاگیر تصور کرتے ہوئے اس کے ساتھ بھیڑ ، بکریوں جیسا سلوک کرتے جبکہ چترالی خواتین کیساتھ ان مرد حضرات کی طرف سے بدسلوکی اور تشدد کے واقعات بھی سامنے آئے جبکہ جرائم پیشہ افراد کی جانب سے ایسا بھی کیا گیا کہ رقم کے عوض نکاح کر کے چترالی خواتین کو جو کہ اپنے حسن و جمال کی وجہ سےدنیا بھر میں مشہور ہیں ملک کے دیگر علاقوں میں لا کر جنسی کاروبار سے منسلک کر دیا گیا۔ جبکہ کئی مرد حضرات نے شادی کےکچھ عرصہ بعد ان خواتین کو طلاق دیدی جن سے ان کی زندگیاں بھی خراب ہوئیں۔ ایسے واقعات کو دیکھتے ہوئے چترال کی ضلع کونسل میں ایک قرارداد پیش کی گئی جس کے بعد ایک چترالی خواتین کی غیر مقامی مردوں کیساتھ شادی کے حوالے سے قانون بنا دیا گیا کہغیر مقامی افراد چترالی خواتین سے شادی کیلئے اپنے علاقے کے تھانے سے کیریکٹر سرٹیفکیٹ کیساتھ اپنے متعلق معلومات بھی درج کروا کر لائیں جن کو دیکھتے ہوئے ان کی چترالی خواتین کیساتھ شادی کی جائے گی۔ جس کے بعد جرائم پیشہ اور بری نیت کے حامل افراد کے چترالی خواتین کے ساتھ شادی کے رجحان میں بڑی حد تک کمی واقع ہوئی

Share

About admin

Check Also

’یہ لڑکی اپنے والد کی کافی میں اپنے دودھ کے چند قطرے ڈال کر کیا کرتی ہے؟۔۔۔‘ خاتون نے ایسی بات کہہ دی کہ لوگوں کو یقین نہ آئے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مائیں بچوں کو تو اپنا دودھ پلاتی ہیں اور یقینا بچوں کے لیے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com