Breaking News
Home / پاکستان / چوہدری پرویز الٰہی نے سارے پاکستانی سیاستدانوں کو پیچھے چھوڑ دیا! ایسا کام کر دکھایا کہ اُمت مسلمہ کے دل خوشی سے باغ باغ ہوگئے

چوہدری پرویز الٰہی نے سارے پاکستانی سیاستدانوں کو پیچھے چھوڑ دیا! ایسا کام کر دکھایا کہ اُمت مسلمہ کے دل خوشی سے باغ باغ ہوگئے

لاہور(نیوز ڈیسک ) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کو آیا صوفیہ میوزیم کو دوبارہ مسجد کا درجہ بحال کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15 ویں صدی کی عظیم یادگار مسجد کو دوبارہ بحال کرنا رجب طیب اردگان کا جراتمندانہ فیصلہ ہے، اس فیصلے سے نہ صرف ترک عوام بلکہ

تمام امت مسلمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ رجب طیب اردگان کے اس فیصلے سے خلافت عثمانیہ کے دور کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ آیا صوفیہ مسجد دنیا بھر کے مسلمانوں کا ثقافتی ورثہ ہے، 1453ء میں حضرت سلطان محمد فاتح رحمتہ اللہ علیہ کے دور میں قائم کردہ اس مسجد کو 1935ء میں میوزیم بنا دیا گیا تھا۔دوسری جانب ترک صدر نے 24 جولائی کو نماز جمعہ ایا صوفیہ میں ادا کرنے کا اعلان کر دیا۔ کے صدر رجب طیب اردوان نے عدالت کی جانب سے جدید ترکی کے بانی کے ایا صوفیہ میوزیم بنانے کو غیرقانونی قرار دیئے جانے کے بعد اس کو مسجد قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو نماز کیلئے کھولنے اعلان کردیا۔انہوں نے کہا کہ آیا صوفیہ میں نماز کا آغاز 24جولائی کو ہو گا۔ترک صدر نے کہا کہ خدا کی رضا سے ہم سب 24 جولائی کو آیا صوفیہ میں نماز جمعہ ادا کریں گے اور آیا صوفیہ کو دوبارہ عبادت کے لئے کھولیں گے۔طیب اردگان نے مزید کہا کہ ہماری تمام مساجد کی طرح آیا صوفیہ کے دروازے بھی مقامی لوگوں ۔غیر ملکیوں ، مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لئے کھلے ہوں گے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق طیب اردوان عالمی سطح پر ایا صوفیہ کی حیثیت تبدیل نہ کرنے کیلئے دباؤ کے باوجود عدالتی حکم آتے ہی مسجد کا اعلان کردیا۔طیب اردوان نے کہا کہ ‘ایا صوفیہ مسجد کی انتظامیہ کو مذہبی امور کے ڈائریکٹوریٹ کے حوالے کرنا کا فیصلہ کیا گیا ہے اور عبادت کیلئے کھلی ہوگی۔واضح رہے کہ جدید ترکی کے سیکیولربانی مصطفی کمال اتاترک نے اپنی حکمرانی کے ابتدائی دنوں میں ہے ایاصوفیہ مسجد کو میوزیم میں تبدیل کردیا تھا۔ انقرہ میں ترکی سپریم عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اس جگہ کو مسجد کیلئے تعین کردیا گیا تھا اس لئے اس کو قانونی طور پر کسی اور مقصد کیلئے استعمال کرنا ممکن نہیں ہے۔فیصلے میں کمال اتاترک کے دستخط شدہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ 1934 میں کابینہ کی جانب سے مسجد کو ختم کرکے اس کو میوزیم قرار دینا قانون کے زمرے میں نہیں آیا۔ایاصوفیہ کے لیے 16 برسوں سے قانونی جنگ لڑنی والی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ایا صوفیہ عثمانی رہنماء کی جائیداد تھی اور انہوں نے شہر پر1453 میں قبضہ کرلیا تھا اور 900 سال پرانے بازنطینی چرچ کو مسجد میں تبدیل کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اردوان ایک سچے مسلمان ہیں اور انہوں نے گزشتہ برس مقامی انتخابات سے قبل عمارت کی حیثیت تبدیل کرنے کیلئے شروع ہونے والی مہم کی حمایت کی تھی۔

Share

About admin

Check Also

”شادی کے تین سال بعد ساس نے بہو سے پو چھا کہ میں تم کو اتنی کھری کھری سناتی ہوں تم پلٹ کر جواب دیتی ہو نہ غصہ کر تی ہو۔۔۔“

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) شادی کے تین سال کے بعد سا سو ماں نے بہو سے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com