Breaking News
Home / انٹرنیشنل / بریکنگ نیوز: اسلام یا فرانس ۔۔۔۔۔؟؟ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اچانک میدان میں آکر کس کی حمایت کا اعلان کر دیا ، پوری دنیا دنگ رہ گئی

بریکنگ نیوز: اسلام یا فرانس ۔۔۔۔۔؟؟ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اچانک میدان میں آکر کس کی حمایت کا اعلان کر دیا ، پوری دنیا دنگ رہ گئی

پیرس (ویب ڈیسک) کینیڈا کے وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق اپنے بیان کے بعد پہلی مرتبہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔فون کال کے دوران ٹروڈو نے کینیڈا کی جانب سے ’فرانس کے لوگوں‘ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

کینیڈا کے وزیرِاعظم کی جانب سے گذشتہ ہفتے آزادی اظہارِ رائے سے متعلق بیان کو کینیڈا اور فرانس میں تنقید کا سامنا رہا۔دوسری جانب فرانسیسی صدر کی جانب سے متنازع خاکوں کا دفاع کرنے پر متعدد مسلمان اکثریتی ممالک میں مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے اور چند ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی بات بھی کی گئی۔گذشتہ ہفتے ٹروڈو کی جانب سے ایک بیان میں فرانس کے شہیر نیس کے ایک گرجا گھر میں ہونے والے اٹیک کی مذمت کی گئی تھی جو تقریباً ایک ماہ سے زیادہ عرصے کے دوران ملک میں اپنی نوعیت کا تیسرا اٹیک ہے۔تاہم انھوں نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا پیغمبرِ اسلام کا خاکہ دکھانے کا حق ہونا چاہیے انھوں نے کہا تھا کہ ’اظہارِ رائے کی آزادی کی حدود متعین‘ ہیں۔فرانس کے جریدے چارلی ایبڈو میں شائع ہونے والے توہین آمیز خاکوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کینیڈا کے وزیر اعظم نے کہا کہ ‘ہم ہمیشہ آزادی اظہار کا دفاع کریں گے۔’اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ آزادی اظہار بغیر حدود کے نہیں ہو سکتی۔ ‘یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دوسروں سے عزت سے پیش آئیں اور معاشرے اور اس دنیا میں موجود دوسرے لوگوں کی جب دل چاہے اور بلاوجہ دل آزادی نہ کریں۔’جسٹن ٹروڈو نے اس سلسلے میں مثال سے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایک سینیما ہال جو فلم بینوں سے بھرا ہوا ہو وہاں کسی شخص کو چیخ کر آگ آگ کہنے کی اجازت نہیں ہوتی۔منگل کے روز ایمانوئل میکخواں کی جانب سے فون پر کینیڈا کے صوبے کیوبیک کے وزیرِ اعلیٰ فرنکوئس لیگال سے بات کی اور انھیں اٹیکس کے بعد یکجہتی کا اظہار کرنے پر شکریہ ادا کیا۔لیگال نے کہا کہ میں نے فرانس میں پیش آنے والے واقعات کی بغیر کسی تحفظات کے مذمت کی تھی۔تاہم اس روز میکخواں کی جانب سے ٹروڈو کو کال نہیں کی گئی تھی اور اسے فرانسیسی صدر کی جانب سے اپنے کینیڈیئن ہم منصب کو نظرانداز کرنا سمجھا گیا تھا کیونکہ دونوں کو ایک جیسے سیاسی خیالات کا مالک سمجھا جاتا ہے۔تام ٹروڈو کی جانب سے اپنے بیان کی وضاحت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ’یہ ضروری ہے کہ ہم آزادی اظہارِ کا دفاع کریں۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے فنکار ہمارے نظریات کو چیلنج کرتے ہیں اور ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں اور معاشرے کی بہتری میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ہم آزادیِ اظہار کا دفاع جاری رکھیں گے۔‘

Share

About admin

Check Also

مجھے باہر نکالو“ دادا جی نے قبر میں دفن ہوتے ہوئے بھی سب کو حیران کر دیا

ڈیجیٹل پاکستانی ٹی وی نیوز! ایک شخص کی آخری رسومات میں شرکت کرنے والے اس …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com