Breaking News
Home / پاکستان / ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سے کم کر کے کتنے سال کر دی گئی ؟سرکاری ملازمین کے کام کی خبر

ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سے کم کر کے کتنے سال کر دی گئی ؟سرکاری ملازمین کے کام کی خبر

اسلام آباد(ویب ڈیسک )وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 55 سال کرنے کی تجویز زیرغور ہے۔ذرائع کے مطابق سینیئر ملازمین کو ریٹائر کرکے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔تمام سرکاری ملازمین کے لیے نئی پالیسی کی تیاری جاری ہے اور وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق ملازمین

کو نوکریوں سے قبل از قت پینشن اور گریجویٹی دے کر ریٹائر کیا جائے گا۔دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ اس ضمن میں 3 الگ الگ کمیٹیاں کام کر رہی ہیں جن میں سے پہلی کمیٹی گریڈ ایک تا 16 کے ملازمین کے معاملات پر سفارشات دے گی جب کہ دوسری گریڈ17 تا 19 تک اور تیسری کمیٹی گریڈ 20 سے 22 تک ریٹائرمنٹ کے معاملات کو دیکھے گی۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی ان ملازمین کی قبل ازوقت ریٹائرمنٹ بمعہ اخراجات کی تجاویزپیش کرے گی تاہم کابینہ کی منظوری کے بعد اس پالیسی کو نافذ کیا جائے گا۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پنجاب حکومت نے ریسٹورنٹس اور شادی ہالز کھولنے کا اعلان کر دیا، صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کا کہنا ہے کہ ستمبر کے شروع میں صورتحال کا جائزہ لے کر ایس او پیز کے تحت تمام شادی ہالز کھولے جا سکتے ہیں، حتمی منظوری این سی او سی کی جانب سے دی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے پیر کے روز لاہور میں مارکی اور شادی ہالز مالکان کی احتجاجی ریلی میں پہنچ کر ستمبر کے پہلے ہفتے سے ریسٹورنٹس اور شادی ہالز کھولنے کا اعلان کر دیا۔بعد ازاں ان سے سی سی پی او آفس میں میرج ہال ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور شادی ہالوں کی بندش سے پیدا ہونے والی صورتحال سے آگاہ کیا۔ میرج ہال ایسوسی ایشن کے وفد نے کہا کہ شادی ہال کھولے جائیں۔ہم ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کریں گے۔

شادی ہال ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید قمر باؤ، جنرل سیکرٹری راؤ طارق اسلام اور دیگر عہدیداران کے علاوہ سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید، ایس ایس پی آپریشنز فیصل شہزاد اور دیگر متعلقہ حکام ملاقات میں موجود تھے۔صوبائی وزیر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شادی ہالوں کی بندش سے آپ کی مشکلات کا پوری طرح احساس ہے۔ ماہ ستمبر کے اوائل میں کورونا کی صورتحال کا جائزہ لے کر شادی ہال کھولنے کی تجویز این سی او سی کے اجلاس میں رکھوں گا۔انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔ ماہ ستمبر کے شروع میں صورتحال کا جائزہ لے کر ایس او پیز کے تحت تمام شادی ہالز کھولے جا سکتے ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ کسی ذاتی عناد کی بنا پر کاروبار بند نہیں کئے گئے بلکہ کورونا کی وباء کے پیش نظر کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوئے۔کاروبار کھلیں گے تو حکومت کو ٹیکس ملے گا اور لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے مزید اقدامات کئے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر جگہ لاک ڈاؤن اور کرفیو لگانے کا شور برپا تھا لیکن وزیر اعظم عمران خان دیہاڑی دار کا روزگار بند کرنے کے حق میں نہیں تھے۔وہ اپنے لوگوں کو کورونا اور بھوک دونوں سے بچانا چاہتے تھے۔ ان کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی کامیاب رہی ہے۔میرج ہال ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے یقین دہانی کرائی کہ شادی ہال کھولنے کی صورت میں حکومتی ایس او پیز پر سو فیصد عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔وفد نے ملاقات کرنے اور مسائل کے حل کی یقین دہانی پر صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کیا۔

Share

About admin

Check Also

مہنگائی کنٹرول سے باہر ہونے پر وزیراعظم عمران خان کا استعفیٰ؟ خبر نے ملک بھر میں تھر تھلی مچا دی

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے پٹرولیم مصنوعات کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com