Home / آرٹیکلز / ٹرین کراچی سے لاہور مہو رواں تھی

ٹرین کراچی سے لاہور مہو رواں تھی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک ٹرین کراچی سے لاہور مہو رواں تھی مولوی صاحب اپنے سامنے بیٹھے ہوئے ایک اجنبی مسافر کو حیرت سے تکتے جارہے تھے گاہے بہ گاہے  مولوی صاحب نے دیکھا کہ مسلسل دس گیارہ گھنٹے گزرنے کے باوجود اس اجنبی مسافر نے اب تک کچھ کھایا پیا نہیں۔

بس چند گھنٹوں بعد اپنی انگلی منہ میں ڈالتا اور بچوں کو طرح چوستا چند لمحے پھر دوبارہ چپ چاپ ہوکر بیٹھا رہتا جانے کن سوچوں میں ، مولوی صآحب کو اس وقت حیرت کی انتہا نہ رہی جب لاہور آ گیا اور اس مسافر نے نہ کچھ کھایا اور نہ پیا اور نہ کہیں ادھر ادھر اسٹیشن پر باہر نکلا ، اب تو مولوی صاحب کا مارے تجسس سے رہا نہ گیا اسٹیشن پر اترتے ہی بولا بھائی صاحب کراچی سے لاہور آگیا آُپ نے نہ کچھ کھایا اور نہ پیا ، کیا آُپ کے پاس پیسے نہیں یا کوئی اور ایسی ویسی بات ہے ، اجنبی پہلے تو مسکرایا پھر مولوی صاحب کا تجسس ، حیرت ، پریشانی کے ملے جلے تاثرات دیکھ کر کہا۔ آئو وہاں بیٹھتے ہیں پھر بتاتا ہوں ، قریب ہی بینچ پھر بیٹھ کر اجنبی مسافر نے ایک دفعہ پھر اپنی اگلی منہ میں ڈالی اسے چوسا پھر مولوی کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور کہا تین سال پہلے میں کفن چور ہوا کرتا تھا ایک دفعہ کہیں میت ہوئی میں جنازے میں شامل ہوا تاکہ قبر یاد رکھ سکوں اور پھر رات میں آکر کفن چوری کروں۔ جیسے ہی رات کے دو بجے میں اپنی مطلوبہ قبر پر پہنچ کر قبر کھودی۔

تختہ اٹھا کر کفن نکالنے کے لئے جیسے ہی اندر جھانکا تو مارے ہیبت کے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی اس دوران میری انگلی کفن کو لگ چکی تھی ہاتھ فورا اوپر کھینچا اندر کا منظر دیکھ کر جلدی جلدی تختے برابر کر کے جیسے تیسے مٹی گرا کر گھر واپس آ گیا ساری رات نیند نہ آ سکی قبر کا منظر یاد آتا رہا۔ کیا دیکھتا ہوں کی ایک نورانی شخص اندر بیٹھا قرآن شریف کی تلاوت کر رہا ہے۔ اور اندر قبر پُرنور اور روشن ہے ، میری جو انگلی اس شخص کے کفن کو چھوئی تھی صبح اس میں بڑی ہی دلکش خوشبو آ رہی تھی رات تو ڈر کے مارے کسی چیز کا ہوش نہ تھا اب جب بھی مجھے بھوک پیاس لگتی ہے میں اس انگلی کو منہ میں ڈال کر چوس لیتا ہوں میری بھوک پیاس ختم ہوجاتی ہے ، یہ کمال صرف اس شخص کے کفن کے چھونے کا تھا اور اس شخص کے ساتھ وہاں کیا معاملات ہوں گے۔ اور وہ شخص کتنا خوش نصیب ہوگا یہ اللہ ہی جانے ، صبح اس کی جانچ  پڑتال کرنے کے لئے میں فوراً دوبارہ قبرستان پہنچا وہاں جا کر تختی پر نام ولدیت پڑھی۔ دوبارہ بستی واپس آیا۔

نام تجمل حسین تھا آخر پوچھتے پوچھتے گھر پھنچا گھر دیکھ کر واپس اپنے گھر آگیا۔ چالیس روز بعد پھر تجمل حسین کے گھر گیا دروازہ کھٹکھٹایا چھوٹی بچی باہر نکلی پوچھنے پر معلوم ہوا کے تجمل حسین کی بیٹی ہے۔ اتنے میں والدہ پردے میں ہی بولی بیٹی کون ہے میں نے ہمت کر کے ساری بات تجمل حسین کی بیوہ کو بتائی ، اور پوچھا ایسا کون سا عمل ہے جس کی بدولت اللہ نے آُ پ کے شوہر کو قبر میں ہی اتنا اونچا مقام عنایت فرمایا۔ تجمل حسین کی بیوہ بولی بھائی صاحب عمل کا تو پتہ نہیں ہاں اتنا ضرور ہے میرے میاں ہر روز قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور دعا کے وقت یہ دعا ضرور مانگتے تھے۔ کہ یا اللہ مجھے قیامت تک قرآن شریف پڑھنے کی توفیق عطا فرما اور میرا شمار ان لوگوں میں فرما جو قبر میں بھی تیری عبادت کرتے ہیں ، اتنا سن پر میں وا پس آگیا آج اس واقعہ کی تین برس ہوچکے ہیں میں اب کفن چور نہیں رہا اب اللہ کا شکر ہے ۔ نوٹ :۔ مولوی صاحب دارالعلوم لطیف آباد 3 نمبر میں امام ہیں اور وہ اجنبی شخص کے بقول قبرستان ماتلی ضلع بدین شھر میں واقع ہے، آگے عالم الغیب اللہ ہے۔

Share

About admin

Check Also

حجاج بن یوسف نے جب اپنی والدہ سے یہ سوال کیا تو عظیم ماں نے کیا تاریخی جملہ بولا تھا ؟ جانیے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) قائداعظم نے ایک دفعہ کہا تھا کہ میں اپنی داہنی جیب میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com