Breaking News
Home / کہانیاں / تُوعشق تُو جنون

تُوعشق تُو جنون

پلیز مجھے جانے دو پلیز مجھے چھوڑ دو میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے کون ہو تم کیوں لائے ہو مجھے یہاں یہ کون سی جگہ ہے یہ پٹی کھولو مجھے کیوں باندھ کے رکھا ہے وہ زور زور سے چلا رہی تھی کمرے میں روشنی تھی یہ اندھیرا وہ ہیں جانتی تھی۔ اس کی آنکھوں پر کالی پٹی باندھ دی گئی تھی اسے تو یاد بھی نہیں تھا کہ اس نے کبھی کسی کے ساتھ کچھ برا کیا ہو اس نے تو کبھی کسی کا برا نہیں چاہا تھا۔

تو کون تھا یہ جو اس کے ساتھ اتنا برا سلوک کر رہا تھا وہ جب سے ہوش میں آئی تھی چلائی جا رہی تھی اسے بیچ سڑک سے اٹھایا گیا تھا ۔ ایک اس طرح سے اس کی کڈنیپنگ دوسرا اس کا باپ بیمار اور تیسری اور اہم بات اس کی عزت کو خطرہ تھا ۔وہ جو کوئی بھی تھا پل میں اس کی عزت اس کا وقار روند کر رکھ سکتا تھا کہاں ہوں میں کون سی جگہ ہے یہ وہ چلاتے چلاتے تھک چکی تھی پلیز میری آنکھیں کھولو کیوں باندھ رکھا ہے مجھے یہاں پر ۔ تھک ہار کروہ خاموش ہوئی جب اسے اپنے قریب کسی کی آہٹ سنائی دی وہ ایک بار پھر سے چلانے لگی کوئی اس کے بے حد قریب تھا ۔ جیسی کوئی اس کی کرسی کے چاروں طرف گھوم رہا ہوں اس کی بے بسی کو دیکھ رہا ہووہ اس کا ہمدرد نہیں تھا کیونکہ اگر ہم درد ہوتا تو وہ اس طرح سے اس کی بے بسی کوئی انجوئے نہ کر رہا ہوتا کو ۔۔۔۔کون ہے۔۔۔۔؟ مجھے کیوں باندھ رکھا ہے ۔۔۔۔؟ میری آنکھیں کھولو کیوں لائے ہو مجھے یہاں پر۔۔۔۔؟ وہ پھر سے چلانے لگی جب کسی نے ٹھنڈا پانی کا گلاس اس پر پھینکنے والے انداز میں گرایا ۔ اچانک اس حملے سے ایک پل کے لئے پریا کی سانس رک گئی دیکھو پلیز مجھے جانے دو اور گہری سانسیں لیتے ہوئے بولی میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو خدا کے لئے مجھے یہاں سے جانے دو میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں میں نے تو کبھی کسی کے ساتھ برا نہیں کیا تم میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو کیا بگاڑا ہے تمہارا۔

پریا کے لبوں سے الفاظ ادا ہوئے اگر وہ سامنے کھڑے شخص کو دیکھ لیتی تو یقیناً جان جاتی کہ کیا بگاڑا ہے اس نے اس شخص کا ۔ وہ روئے جا رہی تھی جب اسے اپنے کانوں میں ایک سرگوشی نما آواز سنائی دی بس بے بی بس اتنا غصہ مسکراتی آواز مذاق اڑاتی آواز اور اس آواز کو پہچاننے میں پریا نے ایک سیکنڈ نہیں لگایا تھا دامیش تغلق ۔۔۔۔۔ یہ نام لیتے ہوئے پریا کی سانس رکنے لگی ہاں دامیش تغلق۔۔،۔ وہی دامیش تغلق جو تمہارے پیار میں پاگل تھا جو تمہارے لیے اپنی جان دینا تو کیا کسی کی جان لے بھی سکتا تھا وہی دانش کا تعلق جو تمہارے لئے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار تھا وہی دامیش تعلق جو تم سے نکاح کرنا چاہتا تھا تمہیں اپنا نام دینا چاہتا تھا اور تم نے کیا کیا اسی کے جذبات کا مذاق اڑایا اس کے جذبات کا سودا کیا ۔ اس کے جذبات کی قیمت لگائی اس کے جذبات کو بیچ دیا ۔ مجھ سے محبت کا ناٹک کرنے کے لئے پیسے ملے تھے نہ تمہیں کتنے پیسے چاہیے تھے کتنے روپیوں کی بھوک تھی تمہیں ۔وہ زبان سے اس کی زات پر کوڑے چلا رہا تھا ارے تم سے بہتر تو ایک رات کی خریدی ہوئی عورت ہوتی ہے جو چند پیسوں کے لیے اپنا جسم بیچ دیتی ہے لیکن کسی کو اپنی محبت کا یقین تو نہیں دلاتی کسی کو اپنے محبت کے جھانسے میں تو نہیں پھساتی ۔ کسی کے جذبات کے ساتھ تو نہیں کھلتیں کیا لگا تھا تمہیں مجھ سے بھاگ جاؤ گی تم اور میں تمہیں جانے دوں گا ۔

نہیں پر یا نہیں ۔دامیش تغلق تمہیں دنیا کے آخری کونے سے ڈھونڈ نکالے گا ۔ بتایا تھا نا تم نے کہ تم میری زندگی میں شامل ہونے والی پہلی اور آخری لڑکی ہو پھر کیا سوچ کر تم نے بھاگنے کی کوشش کی وعدہ کیا تھا نہ تم سے شادی کا تو تم اس طرح سے کہاں جا رہی تھی ہاں کیا لگا تو میں دامیش تغلق اپنی محبت کا ماتم منائے گا اپنی محبت کا رونا روئے گا اور تم دور بیٹھ کر میری بے بسی پر قہقے لگاؤ گی ۔ وہ اس کے بالوں کو پیچھے سے کھینچتے ہوئے اسے بالکل کرسی کے ساتھ لگاتا ہوا اس کی آنکھوں سے پٹی کھول چکا تھا جبکہ پریا تو بس اس کا انداز دیکھ رہی تھی جس دامیش تغلق کو وہ جانتی تھی کہ وہ تو نہ تھا بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے جب کہ وہ اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھانہ بےبی نہ۔ ۔ اگر تمہیں لگتا ہے کہ دامیش تغلق تمہاری محبت کا رونہ روئے گا تمہاری محبت کا سوگ منائے گا تمہاری بے وفائی پر آنسو بہائے گا تو غلط فہمی ہے تمہاری ۔۔وہ اس کے منہ پر دہاڑا تھا ۔وہ تمہارا جینا حرام کر دے گا تمہاری سانس سانس کو تم سے چھین لے گا تمہیں پل پل مرنے پر مجبور کردے گا سرخ آنکھیں صاف بتا رہی تھی کہ نہ جانے کتنی راتوں سے وہ اس کی محبت کا ماتم منا رہا ہے ۔ رات کے اندھیرے میں اس نے بھی اپنے عشق کا خوب سوگ منایا تھا اس کی بے وفائی پر نہ جانے کتنے آنسو بہائے تھے یہ لڑکی مان تھی اس کا جسے چُور چُور کرتے ہوئے ایک بار نہ سوچا تو وہ کیوں اس کے بارے میں سوچتا ہوں صحیح سوچ تھی میری عورت ساتھ محبت کے قابل نہیں ہوتی میں نے اپنی ماں سے ہمیشہ نفرت کی اور اس نے اپنی بیٹی کو بھی اپنے جیسا ہی بنایا دنیا میں کبھی عورت کہ وجود سے محبت نہیں کر پایا میں لیکن تم سے محبت کی ۔۔اور تم نے کیا کیا ۔

کتنا بے وقوف ہے میں وہ اپنے آپ پر ہنسا میں نے سوچ بھی کیسے لیا کہ ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان سے نکلی ہوئی لڑکی مجھ سے محبت کرے گی ۔جب کہ سچ تو یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے مکانوں سے نکلی ہوئی لڑکی بڑے بڑے محلوں کے خواب دیکھتی ہیں لیکن ان لڑکیوں کو کیا ملتا ہے یہ میں تمہیں بتاتا ہوں وہ بھی کسی کی بیوی نہیں بنتی وہ رکھیلیں بنتی ہیں ۔وہ کسی کے گھر کی زینت نہیں کسی کے بستر کی رونق بنتی ہیں۔اور تم بھی وہی بنو گی آخرتم نے بھی تو یہی خواب دیکھا ہوگا نا تو پھر اپنا خواب پورا کیے بغیر یہاں سے جا رہی تھی تم اور تمہیں لگا کے میں تمہیں ایسے ہی جانے دوں گا تم میرے دل کی دنیا ویران اور بنجڑ کر کے چلی جاو گی اور میں جانے دوں گا ہاہاہا نو بےبی نو ۔وہ اس کی بے بسی کا مذاق اڑا رہا تھا یا اپنی محبت کا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا ارے اپنی خواہش پوری کرو میں دوں گا تمہیں محل گھ دولت نوکر چاکر سب ملے گا تمہیں تم جیسی بکاو لڑکیوں کے لئے ہی تو ہے یہ سب کچھ وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے اس کی اوقات بتا رہا تھا تم اس قابل نہیں ہو کہ تمہیں اپنی بیوی بنا سکوں ۔لیکن اپنی محبت کو اپنے ہاتھوں سے پامال نہیں کرنا چاہتا ۔تم نے میرا عشق دیکھا ہے اب نفرت اور میرا جنون دیکھو ۔اگلے دس منٹ میں مولوی صاحب یہاں آنے والے ہیں بے فکر ہو تمہارے ماں باپ بھی ساتھ ہیں ان کے سامنے میں تمہیں عزت سے اپنے نکاح میں شامل کروں گا ۔ لیکن زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے یہ نکاح صرف میرے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لئے ہے ۔میں تمہارے ساتھ ناجائز رشتہ نہیں بنا سکتا ۔ میں وہ نہیں کرنا چاہتا جو میرا باپ کرتا تھا ۔ جس دن مجھے لگے گا کہ میرا بدلا پورا ہوا اس دن تمہیں آزاد کر دوں گا ۔اگر تم زندہ بچی تو ۔کیونکہ ابھی تک تو تم صرف دامیش تغلق کے عشق سے واقف ہو اس کی نفرت تو تمہارے حصّے میں آئی ہی نہیں ۔ وہ اس کا گال تھپتھپاتا ہوا بولا ۔ کہاں تھی اس کے لہجے کی نرماہٹ اس کے لہجے میں اس کے لئے محبت ۔کہاں تھا وہ عشق کا تاثر ۔ کہاں تھا وہ محبت میں لپٹا ہوا حسین سا دل ۔کہاں تھا وہ نرم گو سا شخص یہ تو کوئی اور تھا ۔ یہ وہ شخص نہیں تھا جسے پریا چھوڑ کر آئی تھی یہ تو کوئی اور تھا ظالم و جابر نفرت سے بھرا ہوا ۔ پریہ بے یقینی سے دیکھ رہی تھی جو اس کے سامنے اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔

Share

About admin

Check Also

’’تمہاری ماں کو گھر سے نکال دیا، انہیں لانے گیا تھا ‘‘

شوہر کے گھر میں داخل ہوتے ہی بیوی کا غصہ پھوٹ پڑا:سارا دن کہاں رہے؟ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com