Breaking News
Home / کہانیاں / ایک نوجوان گرل فرینڈ سے رومانٹک موڈ میں کہہ رہا تھا، مجھے تمہاری آنکھوں میں پوری دنیا نظر آرہی ہے۔۔پاس سے گزرنے والے نوجوان نے جو شاید فیصل آبادی تھا، بے ساختہ جگت لگائی ۔۔۔۔۔ پڑھیے ایک دلچسپ تحریر

ایک نوجوان گرل فرینڈ سے رومانٹک موڈ میں کہہ رہا تھا، مجھے تمہاری آنکھوں میں پوری دنیا نظر آرہی ہے۔۔پاس سے گزرنے والے نوجوان نے جو شاید فیصل آبادی تھا، بے ساختہ جگت لگائی ۔۔۔۔۔ پڑھیے ایک دلچسپ تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) دوستو، بچپن سے سنتے آرہے ہیں، تندرستی ہزار نعمت ہے۔۔ یعنی ’’تن درستی‘‘ کو ہزار نعمت قرار دیاگیا ہے۔۔ یہ جس نے قرار دیا وہ یقینی طور پر ’’زن درستی‘‘ سے لاعلم ہوگا۔۔ ہمارے محترم دوست عبدالحکیم ناصف جو کہ معروف مزاحیہ شاعر بھی ہیں انہوں نے تندرستی کی ٹکر پر ’’زن درستی‘‘ کو

متعارف کرایا ہے۔۔نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بقول عبدالحکیم ناصف صاحب کہ۔۔انتخاب اس کا سوچ کر کیجو، ورنہ ہستی مری قیامت ہے۔۔تن درستی کی فکر چھوڑ ابا، ’’زن درستی‘‘ ہزار نعمت ہے۔۔ہم چونکہ حکیم صاحب کے متاثرین میں شامل ہے اس لئے آج ’’زن درستی‘‘ پر کچھ اوٹ پٹانگ باتیں کی جائیں گی۔۔جب کوئی عورت یہ کہے اس دنیا کے سارے مرد جھوٹے اور بے وفا ہیں کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا اس نے دنیا کے سارے مردوں کو آزما لیا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے جس شخص کو آزمایا وہ اکیلا اس کیلئے پوری دنیا کے برابر تھا۔۔اسی پرایک واقعہ یاد آگیا، ہمارے پیارے دوست اپنی گرل فرینڈ سے رومانٹک موڈ میں کہہ رہے تھے، مجھے تمہاری آنکھوں میں پوری دنیا نظر آرہی ہے۔۔پاس سے گزرنے والے نوجوان نے جو شاید فیصل آبادی تھا درمیان میں دخل در نامعقولات کرتے ہوئے بول پڑا۔۔ میری جوتی دیکھنا جو کل مسجد سے ’’گواچی‘‘ تھی۔۔۔ایک ڈھول والا شادی میں ڈھول بجا رہا تھا ،ڈھول کے دونوں طرف دو مختلف عورتوں کی تصویریں تھیں۔۔یہ دیکھ کر ایک بزرگ نے اس سے پوچھا ۔۔خوبصورتی کے پجاری لگتے ہیں ۔۔ڈھول والا مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔پجاری جیسی کوئی بات نہیں۔۔ڈھول کے ایک طرف میری ساس کی تصویر ہے،دوسری طرف آپ سمجھ گئے ہوں گے، گھر میں یہ موقع نہیں ملتا، اس لئے یہاں دے دھنادھن۔۔۔ساسوں سے متعلق یہ نظریہ عام ہے کہ انہیں اپنی بیٹیاں،بیٹیاں لگتی ہیں اور بہوئیں ’’غلام‘‘، ساس کبھی بہو کو بیٹی تسلیم ہی نہیں کرتی، (یہ ہم اکثریت کی بات کررہے ہیں) حالانکہ ساس بھی کبھی بہو تھی۔۔

شوہروں سے پوچھوتو وہ بتاتے ہیں کہ ساس ہی اپنی بیٹی کو خوب سکھاتی ہے۔۔بیگم صاحبہ کسی بھی گھر کی ’’وزیرداخلہ‘‘ ہوتی ہے، یعنی ’’دخول ‘‘ کے تمام معاملات انہی کے سپرد ہوتے ہیں،کس کا گھر میں داخلہ ہوگا کس کا داخلہ ممنوع ہے، کس بچے کا کون سی کلاس میں داخلہ کرانا ہے، کس رشتے دار سے ملنا ہے،کس کی انٹری بند ہے، کس بچے کا خرچہ بند کرنا ہے، ایسے کئی مسائل پر بیگم صاحبہ کی کافی گہری نظر ہوتی ہے، ایک بیگم صاحبہ نہایت گڑگڑا کر اور بہت ہی خشوع و خضوع سے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں دعاگو تھی کہ۔۔ یااللہ میرے شوہر کو بہت سارا پیسہ دے، اچھی سی گاڑی دے، بہترین سا بنگلہ دے، باقی اس سے لینا میرا کام ہے۔۔ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ ۔۔ دعاؤں میں ہیرپھیر نہیں کرنی چاہیئے ،صدق دل سے جو دعا کی جائے اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور سنتا ہے اور اسے پوری بھی کرتا ہے۔۔ایک لڑکی نے بہت عقیدت و احترام سے نماز پڑھی پھر دعا کی کہ۔۔یااللہ میں اپنے لئے کچھ نہیں مانگتی بس میری امی کو ایک خوب صورت اور امیروکبیر داماد عطا فرما۔۔کچھ دنوں کے بعد دعا قبول ہوئی اور اس کی چھوٹی بہن کی شادی ہو گئی۔۔ اسی لئے ہمارے پیارے دوست کا کہناہے کہ جو دل میں ہو وہی دعامانگو۔ایسا ہی ایک بیوی کے ہاتھوں ستایا ہوا شوہرکسی کے بتانے پر ایک ’’آستانے‘‘ گیا، جہاں سات ملنگ سات چٹائیوں پر لیٹے ہوئے تھے،مظلوم شوہر نے سب سے بڑے ملنگ سے کہا، باباجی میری بیوی بہت لڑاکا ہے،کوئی حل بتادیں۔۔اس ملنگ نے سب سے چھوٹے ملنگ کو آواز دی۔۔چھوٹو ایک چٹائی اور بچھا دے۔۔

Share

About admin

Check Also

’’تمہاری ماں کو گھر سے نکال دیا، انہیں لانے گیا تھا ‘‘

شوہر کے گھر میں داخل ہوتے ہی بیوی کا غصہ پھوٹ پڑا:سارا دن کہاں رہے؟ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com