Breaking News
Home / انٹرٹینمنٹ / میں اپنی بیٹی کو اس کام کی اجازت کیوں دوں۔۔۔؟؟؟ شاہد آفریدی کی بیٹی ٹی وی پر ایسا کیا دیکھ رہی تھی کہ انہوں نے غصے میں آکر ٹی وی ہی توڑ دیا ؟ پاکستانی حیران رہ گئے

میں اپنی بیٹی کو اس کام کی اجازت کیوں دوں۔۔۔؟؟؟ شاہد آفریدی کی بیٹی ٹی وی پر ایسا کیا دیکھ رہی تھی کہ انہوں نے غصے میں آکر ٹی وی ہی توڑ دیا ؟ پاکستانی حیران رہ گئے

کچھ سال پہلے شاہد آفریدی نے غصے میں آکر ٹی وی کیوں توڑا جب انکی بیوی اور بچے ٹی وی دیکھ رہےتھے؟ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان نے ایسا انکشاف کردیا جس سے شاہد آفریدی کی ملک سے محبت اور بھارت سے نفرت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے . ایک نجی ٹی وی پر ندا یاسر کے شو میں شاہد آفریدی نے بتایا کہ وہ گھر میں اپنی اہلیہ نادیہ کو بھارتی ڈرامے دیکھنے سے منع کرتے تھے خصوصا بچوں کو اس حوالے سے سخت ہدایات تھیں کہ ٹی وی پر انڈین ڈرامہ یا فلم نہ چلے .

ایک دن وہ اپنے کمرے سے نکلے تو انہوں نے ٹی وی پر معروف بھارتی چینل کا ڈرامہ چلتا دیکھا، صرف یہی نہیں ان کی ننھی بیٹی نا سمجھی میں ڈرامے میں دکھائے جانیوالے سین کے مطابق پلیٹ پکڑے آرتھی اتارنے کی نقل بھی کر رہی تھی، یہ منظر دیکھ کر شاہد آفریدی غصے میں آگئے اور انہوں نے بیٹی کو تو ڈانٹ نہ پلائی بلکہ ٹی وی کو ہی جہنم واصل کردیا.شاہد آفریدی کا یہ کلپ سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہورہا ہے اور سوشل میڈیا ایک جانب جہاں پاکستانی صارفین شاہد آفریدی کے اس اقدام کو سراہ رہے ہیں وہیں بھارتی ایک بار پھر پراپگینڈے میں مصروف ہیں .

خیال رہے کہ شاہد آفریدی کی حب الوطنی پر شک نہیں کیا جاسکتا وہ ، ہر مرتبہ کچھ نہ کچھ ایسا کرتے ہیں جس سے بھارتی جل کر خاکستر ہوجاتے ہیں، انہوں نے مسئلہ کشمیر پر بھی بھر پور طریقے سے آواز اُٹھائی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ کرکٹر ہوتے کے ناطے انکی پوری دنیا میں بھی فین فالوونگ ہے اس کے باوجود وہ بھارت کے خلاف آواز اُٹھاتے رہتے ہیں اور اپنا مؤقف پوری دنیا کو بتاتے ہیں کہ بھارت مسلمانوں اور اقلیتوں کے ساتھ نارواں سلوک کر رہا ہے پوری دنیا کو نہ صرف بھارتی رویے کی مذمت کرنی چاہیئے بللکہ آواز بھی اُٹھا ی چاہیئے .

Share

About admin

Check Also

افغان شوہر کا بیوی پر انوکھا الزام

(این این ایس نیوز ) افغانستان کے مغربی صوبہ ہرات کے پشتون زرغون شہر میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com