Breaking News
Home / پاکستان / جو امت حضورؐ کی توہین پر کچھ نہ کر سکے اسے مر جانا چاہیے، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے ریمارکس

جو امت حضورؐ کی توہین پر کچھ نہ کر سکے اسے مر جانا چاہیے، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے ریمارکس

اسلام آباد (نیوز ڈیسک + این این آئی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس قاسم خان نے انبیاء کرام اور صحابہ کرام کی توہین آمین پوسٹوں کے خلاف درخواست پر سماعت کی، سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اپنے ریمارکس میں کہا کہ جو امت حضورؐ کی توہین پر کچھ نہ کر سکے اسے مر جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں تو سرکار دو عالمؐ کی ذات کے معاملے پر بڑا کلیئر ہوں،

اگر ملکی قوانین کی خلاف ورزی پر لوگ مقرر کر رکھے ہیں تو حضورؐ کا معاملہ بھی تو قانون میں شامل ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مہلت مانگنے پر کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی گئی، دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے ایم سی بی کا ای او بی آئی کنٹری بیوشن واپس نہ کرنے پر چیئرمین اور ڈی جی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان کو کیس کا پراسکیوٹر مقرر کر دیا،عدالت نے چیئرمین اور ڈی جی ای او بی آئی کو فرد جرم کیلئے 13 جنوری کو طلب کر لیا جبکہ چیف جسٹس محمد قاسم خان نے ریمارکس دئیے ہیں کہ مختلف محکموں کے افسران کے خلاف توہین عدالت کی 4 ہزار درخواستیں زیر التوا ء ہیں،سرکاری افسروں کے رویے سے ظاہر ہوتا ہے وہ عدالتی حکم پر جان بوجھ کر عملدرآمد نہیں کرنا چاہتے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے ایم سی بی بنک کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی ۔ درخواست گزار بینک کی طرف سے طارق بشیر ایڈووکیٹ پیش ئے اور موقف اپنایا کہ ای او بی آئی نے ملازمین کے کنٹری بیوشن کیلئے رقم جمع کروانے کا حکم دیا تھا،نوٹس پر 14 کروڑ روپے جمع کروائے ۔فاضل ہائیکورٹ نے بنک ملازمین کی کنٹری بیوشن کا نوٹیفکیشن کالعدم کر دیا تھا، لاہور ہائیکورٹ نے ای او بی آئی کی مد میں جمع کروائے گئے 14 کروڑ روپے واپس کرنے کا حکم بھی دیا تھا،عدالتی حکم کے

باوجود جمع کروائی گئی رقم واپس نہیں کی جا رہی۔ استدعا ہے کہ چیئرمین اور ڈی جی ای او بی آئی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ دوران فاضل چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں موجود افسران سے استفسار کیا چیئرمین اور ڈی جی کون ہیں؟ ۔چیئرمین اور ڈی جی نے ہاتھ کھڑا کر کے اپنی حاضری کا بتایا۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ دونوں افسروں کو توہین عدالت کا نوٹس

جاری کر رہا ہوں، آئندہ سماعت پر دونوں افسروں پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔وکیل ای او بی آئی نے کہاکہ ہم واجبات ادا کرنے کو تیار ہیں، ایک موقع دیدیں ہم عدالتی حکم پر عملدرآمد کر کے رپورٹ جمع کروا دیتے ہیں۔ فاضل عدالت نے کہا کہ آپ نے مذاق بنایا ہوا ہے۔ عدالت حکم کے بعد سپریم کورٹ سے کوئی حکم امتناعی بھی موجود نہیں اور رقم روک کر بیٹھے ہیں، ان افسروں
کی وجہ سے لوگ دھکے کھاتے پھر رہے ہیں، ایسا رویہ برداشت نہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی استدعا کی کہ ایک موقع دے دیں حکم پر عملدرآمد کر دیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو پراسکیوٹر مقرر کر دیا ہے، اب آپ چاہیں تو آئندہ

سماعت وکالت نامہ لیکر آجائیں یا پراسکیوٹر رہیں۔ ادارے کے وکیل نے دوبارہ استدعا کی کہ ایک موقع دے دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود رقم ادا نہیں کی گئی ،آپ رقم کے ساتھ انٹرسٹ بھی دیں گے پھر دیکھیں گے ۔

Share

About admin

Check Also

”شادی کے تین سال بعد ساس نے بہو سے پو چھا کہ میں تم کو اتنی کھری کھری سناتی ہوں تم پلٹ کر جواب دیتی ہو نہ غصہ کر تی ہو۔۔۔“

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) شادی کے تین سال کے بعد سا سو ماں نے بہو سے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com