Breaking News
Home / City News / بچوں کی بھوک مٹانے کے لیے ماں نے اپنے بال 150 روپے میں فروخت کر دیے ، 100 روپے کی بچوں کے لیے غذا لے آئی اور باقی 50 روپے کا کیا لیا ؟ جان کر آپ کی آنکھیں نم ہو جائیں گی

بچوں کی بھوک مٹانے کے لیے ماں نے اپنے بال 150 روپے میں فروخت کر دیے ، 100 روپے کی بچوں کے لیے غذا لے آئی اور باقی 50 روپے کا کیا لیا ؟ جان کر آپ کی آنکھیں نم ہو جائیں گی

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) بھارتی ریاست تامل ناڈو کے شہر سلیم میں ایک بیوہ خاتون نے کم سن بچوں کی بھوک مٹانے اور انہیں غذا دلانے کے لیے اپنے سر کے بال محض 150 روپے میں فروخت کرلیے۔بھارتی اخبار کے مطابق سلیم شہر کی بیوہ خاتون 31 سالہ پریما کے تین کم سن بچے کئی دن سے بھوکے تھے۔اور انہوں نے اہل محلہ سے مالی مدد کی اپیل بھی کی۔

تاہم خاتون کی کسی نے بھی مدد نہیں کی۔ رپورٹ کے مطابق اہل محل اور رشتہ داروں کی جانب سے مدد نہ کیے جانے کے بعد خاتون نے محلے میں بال خریدنے کے لیے آنے والے شخص کو محض 150 روپے میں اپنے سر کے بال فروخت کردئیے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بال خریدنے والے شخص نے خاتون کو بتایا کہ ان کے بالوں سے وگ بنایا جائے گا جس کے بعد خاتون نے موقع پر اپنا سر منڈوالیا اور بالوں کو 150 روپے میں فروخت کردیا۔ بالوں کی فروخت کے بعد ملنے والے 150 روپے میں سے خاتون نے 100 روپے میں بچوں کے لیے غذا خریدی جب کہ بچ جانے والے 50 روپے میں سے خاتون نے کیڑے مار دوا خرید کر اپنبی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش بھی کی۔اخبار کے مطابق دکاندار نے خاتون کو دوا دینے سے انکار کیا تو خاتون نے دوسری چیزوں سے بھی اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی تاہم اسے اپنی بہن نے بچالیا اور بعد ازاں خاتون کی داستان مقامی گرافک ڈیزائنر نے سوشل میڈیا پر شیئر کی تو کئی افراد نے خاتون کی مدد کی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ گرافک ڈیزائنر کی جانب سے خاتون کے سر منڈوانے کی تصویر بچوں کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے کے بعد کئی افراد نے متاثرہ خاتون کی مدد کی اور انہیں ڈیڑھ لاکھ روپے تک مالی معاونت مل گئی۔

Share

About admin

Check Also

سندھ میں شوہر نے 2ہزار روپے کیلئے بیوی دوستوں کو بیچ ڈالی۔۔!! پھر دوستوں نے اس کیساتھ کیا سلوک کیا؟جان کر آپ کی روح بھی کانپ اٹھے گی

بدین (نیوز ڈیسک ) لڑکی کو اجتماعی زیادتی کے بعد گاڑی سے کچل کر مار …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com