Breaking News
Home / سبق آموز / میں اور تا یا کی بیٹی ایک ہی بس میں کالج آ تے بس والے انکل

میں اور تا یا کی بیٹی ایک ہی بس میں کالج آ تے بس والے انکل

آج میں آپ کے لیے سبق آموز واقعہ لے کر حاضر ہوئی ہوں مگر واقع سننے سے پہلے آپ سے گزارش ہے کہ ان باتوں کو اس واقعہ کو بہت ہی زیادہ دھیان سے سنیے گا۔ تو آئیے سنیے آج کا واقعہ کاجل میری تایا زاد تھی ہمارے گھر پاس پاس تھے ہم عمر ہونے کی وجہ سے ایک ساتھ سکول میں داخلہ لیا تھا اور اب نویں جماعت میں آگئے تھے مڈل گرلز سکول گھر سے پندرہ میل دور تھا لاری اڈے سے بس ملتی تھی اکٹھی گھر سے نکلتی اور اڈے تک پیدل سفر کر تی تھیں۔ امی اور تائی کی کبھی نہ بنی جب تک ایک گھر میں رہنا سہنا تھا کسی طرح گزارا کر لیا بچے کچھ بڑے ہوئے تو تا یا ابو نے صحن کے بیچ و بیچ دیوار اٹھا دی یوں ایک مکان دوحصوں میں تقسیم ہو گیا۔

کاجل بھی مجھ سے ایک دیوار ادھر ہو گئی مکان کی تقسیم سے ہماری محبت میں فرق نہیں آیا ہم روز ملتے تھے اکٹھے سکول جا تے جب تائی ہمارے گھر آتیں اور نہ امی سے ملتیں لیکن ہم نے اپنی ماؤں کی تلخ روش کو نہ اپنا یا اور اپنا ئیت کے رشتے کو قائم رکھا۔ مجھے کوئی روک ٹوک نہ تھی تایا ہمارے گھر آتے اور ہم سے پیار کر تے کیونکہ یہ تو عورتوں کی لڑائی تھی جس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں تھا۔ نویں میں سکول دور ہو گیا تھا اب لاری سے جا نا پڑتا تھا تواس کے لیے صبح جلدی نکلتا ہو تا تھا۔ سواری کے لیے ویگن بس یا لاری جو بھی اس وقت ملتی اس پر سوار ہو جا تے تا کہ لیٹ نہ ہوں زیادہ تر لاری اڈے سے بس پر ہی سوار ہو تے جو ہم کو لب سڑک واقع ہمیں مڈل سکول پر اتار دیتی روز کی سواریوں سے عموماً بس ڈرائیور واقف ہو جاتے تھے ہمارے ہاتھوں میں سکول بیگ کو دیکھ کر وہ گاڑی کو روک رکھتے۔

اگرچہ ہم ابھی کچی سڑک پر ہوتے وہ آتا ہوا ہمیں دیکھ لیتے تھے۔ تائی لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے گئی جس نے بتا یا کہ تمہاری بچی تو امید سے ہے تائی پر تو قیامت ڈھا دی گئی اب تایا کو بتائے بغیر چارا نہ تھا ان کے بھی اوسان خظا ہو گئے انہوں نے کاجل پر سختی کہ تو اس نے نوجوان کا نام بتا دیا جس کا نام شہاب تھا اور وہ اسی گاؤں میں ایک ٹرک ڈرائیور کا بیٹا تھا۔ خاندان شریف تھا تا یا کے سارے علاقے میں بہت عزت تھی یہ رشتہ جوڑ کا نہ تھا اب مجبوری تھی کہ تا یا کی عزت ایک ڈرائیور کے بیٹے کے ہاتھ میں تھی معامل سنجیدہ تھا ۔ ابو نے اپنے بڑے بھائی سے مشورہ کیا مشورہ دیا گیا کہ عزت بچانی ہے تو اس کو اسی لڑکے سے بیاہ دو بے شک ہمیں بعد میں ہمیشہ کے لیے نا طہ ختم کر لینا۔ اس وقت حالات ایسے ہیں۔

کہ ان حالات میں خاندان کو کوئی لڑکا بھی تمہاری بیٹی سے شادی نہیں کرے گا پتہ کر ایا گیا تو معلوم ہوا کہ لڑکا پہلے سے ہی شادی شدہ ہے۔ تین بچوں کا باپ ہے اور کام بھی کوئی نہیں کرتا اولاد جیسی بھی بری ہو کوئی باپ بیٹی کو جان بوجھ کر کنویں میں دھکا نہیں دینا چاہتا۔ والد صاحب رو کر کہنے لگے ایک تو شہاب کم ذات شادی شدہ بھی ہے اس سے بہتر ہے کہ کاجل کو زہر دے دی جا ئے اپنے بھائی کی مجبوری کو دیکھ کر ابو کی آ نکھوں میں آنسو آ گئے۔ بھابھی تو بن گئی مگر ہماری دوستی جاتی رہی۔ جس کی وجہ صرف وہی جانتی تھی باقی لوگ تو اسے وہی عزت و تکریم دیتے تھے جو اس رشتے کو ملنی چاہیے تھی امی مجھے کہتی تھیں کہ تم کاجل کے لیے دور دور رہتے ہیں کیا روایتی نند کا رول ادا کر رہی ہو۔

اور میں جواب دیتی کہ ہاں نند بن گئی ہوں کاجل نے چار اور بچوں کو جنم دیا جو مجھے سبھی پیارے لگتے تھے ان کو دل سے لگاتی ہوں تو ٹھنڈ ک محسوس ہوتی ہے مگر اس کے پہلے بیٹے کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوتی دل میں چبھن ہونے لگتی ہے اور سوچتی ہوں کہ اگر یہ میرے بھائی کی اولاد نہیں ہے تو اس کے ساتھ کتنا بڑا دھو کہ ہےکتنی بڑی زیادتی ہے کہ وہ اس بچے کو بھی اپنی اولاد سمجھ کر پا ل رہا ہے یہی سوچ میرے دل کو کچوکے لگاتی ہے او ر کبھی کبھی مجھے کاجل سے نفرت محسوس ہونے لگتی ہے اے کاش کاجل کے قدم نہ بہکتے۔

Share

About admin

Check Also

بہت ہی زیادہ ناقابل یقین مگر بلکل ہی سچے تاریخی واقعات

لاہور نامور کالم نگار فضل حسین اعوان اپنے ایک اہم کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com