Home / اہم خبریں / عمران خان واحد وزیر اعظم ہیں جو ہیلی کاپٹر پر دفتر آتے ہیں،آج الیکشن کمیشن سے استتعفے مانگے ہیں کل سپریم کورٹ کے ججز سے استعفے مانگیں گے، جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی شدید تنقید

عمران خان واحد وزیر اعظم ہیں جو ہیلی کاپٹر پر دفتر آتے ہیں،آج الیکشن کمیشن سے استتعفے مانگے ہیں کل سپریم کورٹ کے ججز سے استعفے مانگیں گے، جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی شدید تنقید

(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسی نظر ثانی کیس کی براہ راست کوریج سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ جمعرات کو جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی لارجر بینچ معاملہ کی سماعت شروع کی تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے موقف اپنایا کہ وزیراعظم عمران خان اوروزیر قانون نے درخواست کی مخالفت نہیں کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے صدر اور اٹارنی جنرل کی طرف سے مخالفت کی،میں نے کبھی نہیں کہا کہ تمام مقدمات میں براہ راست کوریج ہو،صرف اپنے کیس کی براہ راست کوریج کی استدعا کی ہے، دکھانا چاہتا

ہوں عدالت سب کو عوامی سطح پر قابل احتساب بناتی ہے،بینچ میں موجود جسٹس عمر عطابندیال کے علاوہ سب ججز میرے جوئینر ہیں،پراپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ جوئینر جج کبھی سینئر کے خلاف فیصلہ نہیں دیں گے،کہا گیا عدالت معاملہ فل کورٹ میٹنگ میں بھجوا دے،اگر چیف جسٹس فل کورٹ میٹنگ ہی نہ بلائیں تو کیا ہو گا، دو ججز میرا کیس سننے سے معذرت کر چکے ہیں،تین ججز سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبر ہیں،تمام پانچ ججز میرے حوالے سے فل کورٹ میٹنگ میں شرکت نہیں کریں گے، حکومت نے کہا لوگ جاہل ہیں عدالتی کاروائی نہیں سمجھ سکیں گے، یہ بھاشن نہ دیں کہ قوم کو عدالتی زبان سمجھ نہیں آتی،ججز فیصلوں سے بولتے ہیں تو میڈیا کو عدالت سے باہرنکال دیں،میڈیا کو فیصلہ کرنے دیں میری کونسی بات چلانی ہے کونسی نہیں،فیصلوں سے بولنا ہے تو فیصلے بعد میں میڈیا کو جاری کردیئے جائیں،میڈیا اتنا آزاد ہے کی ساری خبریں عمران خان اور شیخ رشید سے شروع ہوتی ہیں،،پاکستان کی تاریخ کا سب سے طویل فیصلہ بھٹو کیس کا تھا،بھٹو کیس نے 963 صفحات کے فیصلے میں کہیں نہیں لکھا کہ اوپن کورٹ میں سماعت ہوئی،سانحہ کوئٹہ کی رپورٹ ردی کی ٹوکری میں پھنیک دی گئی،ارشد ملک کی قابل اعتراض حالت میں ویڈیو کس نے بنائی؟ڈیتھ سیل سے صولت مرزا کی ویڈیو سارے میڈیا کودی گئی،خود کو ملک کا مالک سمجھنے والے پاگل ہیں یا فرعون،عمران خان نے کہا اپوزیشن ایک جج کو اوپر چڑھانا چاہتی ہے،اپوزیشن مجھے کیسے اوپر چڑھا سکتی ہے،جج کو نکال دیں لیکن بلیک میل نہ کریں،وزیر اعظم نے ایک آئینی ادارے الیکشن کمیشن پر حملہ کیا ہے،ارکان سے استعفا مانگا جارہا ہے ،کل سپریم کورٹ کے ججز سے بھی استعفا مانگے گا،عمران خان واحد وزیر اعظم ہیں جو ہیلی کاپٹر پر دفتر آتے ہیں،چاہتے ہیں میں صرف
فیملی اور سول مقدمات سنوں،فل کورٹ میٹنگ کرنا ہو تو چھٹیوں میں بھی ہو جاتی ہے، ایک چیف جسٹس نےاسسٹنٹ رجسٹرار کے لیے فل کورٹ میٹنگ بلائی تھی،ایک بار فل کورٹ میٹنگ پر دستخط سے بھی انکار کیا تھا،ملک ٹینکوں سے نہیں قلم سے بنتے ہیں،کچھ عرصہ بعد قائداعظم کی جگہ ضیاء الحق کی تصویریں لگیں گی،حمود رحمان کمیشن رپورٹ بھی نالے میں پڑی ہے،کیا طاقتورافراد کو جاہل قوم سے ڈر ہے؟حمود رحمان کمیشن رپورٹ پر عمل نہیں کرنا تھا تو چیف جسٹس کا وقت ضائع کیوں کیا، حمود رحمان کمیشن رپورٹ کا اردو ترجمہ کیوں نہیں کرایا جاتا؟عام شہریوں کو آئین اور قانون کا بھی علم نہیں ہوتا،حکومت میرے کیس میں ملزم ہے،ملزمان سےکہتا ہوں مجھے میرے سامنے ملزم بنائیں،کفر کا مطلب ہے سچ پر پردہ ڈالنا،سچ جان کر اس پر عمل نہ کرنے والے منافق ہوتے ہیں،شمالی علاقہ جات کی حقیقت بھی کوئی نہیں بتاتا،دنیا کہتی ہے محکمہ زراعت درخت لگانے کے علاوہ بھی بہت کام کرتا ہے،میرے متعلق کہا جاتا ہے میںعدالت میں سخت ہوتا ہوں،میں تو کہتا ہوں وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی برائے راست نشر ہونا چاہیے،کابینہ میں کوئی سیاست نہیں ڈسکس ہو سکتی،وفاقی وزراء سیاسی بیانات دیتے ہیں،پی ٹی وی وزیر اعظم کی سیاسی تقریر دکھاتا ہے جو غیر قانونی ہے،میرے ہم وطنوں کی تقریر بھی برائےراست دکھائی جاتی ہے،عمران خان کا کوئی وکالت نامہ نہیں دیا گیا،بہتر ہو گا عدالت مختصر حکم جلد سنائے۔جسٹس عمر عطابندیال نے ایک موقع پر جسٹس فائز عیسیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپ نے کیسے تعین کر لیا ججز شرکت نہیں کریں گے؟ایسے الفاظ حکومت نے استعمالنہیں کئے،آپکا بولا ہوا ہر لفظ میڈیا میں رپورٹ ہوتا ہے،کل اپ نے گٹر کا لفظ استعمال کیا وہ بھی میڈیا میں آیا،الفاظ کے چناؤ میں اختیاط کریں آپ جج ہیں،حمود رحمان رپورٹ کا اردو ترجمہ آچکا ہے۔جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دئیے کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔دوسرے فریق کے وکیل کی تذلیل نہیں کرتے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے قانونی نقاط پر دلائل دیئے تھے۔اس موقع پر صدر ، وزیراعظم اور اٹارنی جنرل نے عامر رحمان کے دلائل اپنا لیے۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر جسٹس فائز عیسی نظر ثانی درخواستوں کی لائیو کوریج کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

Share

About admin

Check Also

اناللہ وانا الیہ راجعون!چوہدری برادران کے گھر صفِ ماتم بچھ گئی

اناللہ وانا الیہ راجعون!چوہدری برادران کے گھر صفِ ماتم بچھ گئی۔۔۔۔لاہور(نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com