Breaking News
Home / پاکستان / ایک شخص جس کا یہ عمل کرنے کا معمول تھا

ایک شخص جس کا یہ عمل کرنے کا معمول تھا

نیوز ڈیسک! آج پھر میں قبر ستا ن سے گررتے ہوئے کچھ دیر کے لیے باباجی کے پاس بیٹھ تھا میرے گھر کے راستے میں گاؤں کا پرانا قبرستان تھا۔ جہاں ایک بابا جی کا ڈیرا تھا کالج سے واپس پر میں اکثر کچھ دیر کے لیے وہاں رک جایا کرتا تھا۔ مٹی کے کچے گھڑے کا ٹھنڈا پانی برگد کے درخت کی چھاؤں اورقبرستان کی ہولناک خاموشی میں باباجی کی ٹھہری ہوئی پر سوز آواز میں باتیں سننے کا مجھے

عجیب سا چسکا لگ چکا تھا۔ باباجی قبروں کا خیال رکھتے اور جب کوئی گاؤں کارہائشی مرجاتا تو اس کی قبر کھودنا بھی انہی کی ذمہ داری تھی ۔ گاؤں والوں کا بھیجا کھانا ان کی ضرورت کے لیے کافی ہوتا تھا۔ اس میں سے بھی ایک حصہ وہ پرندوں اورجانوروں کو دے دیتے باباجی آج کوئی خاص نصیحت کریں نا۔ جو زندگی بھر میرے کام آئے میں نے پانی کا برتن گھڑے پرواپس رکھتے ہوئے کہا باباجی مسکر ا پڑے اور کہنے لگے کہ چلو آج ایک و اقعہ سناتا ہوں جس میں بہت بڑی نصیحت بھی ہے یادرکھو بیٹا!جو نصیحت بڑوں کی باتوں سے حاصل ہوتی ہے ۔ و ہ ان کتابوں سے بھی نہیں ملے گا ۔ باباجی ! نے قریب پڑی میری کتابوں پرہاتھ پھیرتے ہوئے کہا میں مکمل توجہ سے ان کی باتیں سن رہا تھا۔ کہنے لگے کہ یہ بہت پرانی بات ہے۔ ایک شخص کو مردہ عورتوں سے ز ن ا کرنے کی عادت پڑچکی تھیجب بھی قبرستان میں کوئی جوان عورت دفن کرکے جاتے وہ شخص رات کو قبر کھو د کراس عورت کی ل ا ش سے گن ا ہ کرکے بے حرمتی کرتا تھا۔ وقت کا بادشاہ بہت نیک انسان تھا اس کو ایک رات خواب میں ایک بزرگ ملے اور حکم دیا کہ فلاں مقام پر ایک شخص رہتا ہے وہ مردہ عورتوں کی بے حرمتی کرتاہے اس کوفوراً پکڑ کر لاؤ اور اپنے دربار میں اعلیٰ عہدہ عطا کر دو۔ بادشاہ یہ حکم سن کر بہت

حیران ہوا اس سے پہلے کہ وہ بزرگ سے کوئی سوال پوچھتا اس کی آنکھ کھل گئی بادشاہ نے اسی وقت سپاہیوں کو اس بندے کی رہائش کامقام اور نشانیاں بتا کر گرفتار کرنے بھیج دیا۔ سپاہیوں نے جلد ہی اس بندے کو ڈھونڈ نکالا اور دربار میں بادشاہ کےسامنے پیش کردیا وہ آدمی سمجھ گیا کہ اس کا جرم اب چھپا نہیں رہا اور اس کی موت کا وقت آن پہنچا ہے لیکن اس وقت اس کی حیرت اور خوشی کی انتہانا رہی ۔ جب بادشاہ نے اس کو اپنا نائب مقرر کردیا اب تو اس شخص کے وارے نیارے ہوگئے اس کے چاروں طر ف شباب اور شراب کی کمی نہ تھی جس لڑکی کو چاہتا وہ اس کے حرم میں پہنچا دی جاتی وقت گزرتا گیا۔بادشاہ کو ایک رات دوبارہ اسی بزرگ کی زیارت ہوئی جس نے بادشاہ کو گن ا ہ گار شخص کو گرفتار کرکے اعلیٰ عہدے سے نوازنے کا حکم دیا تھا ۔ بادشاہ نے عرض کی کہ حضور ہم آپ کی حکمت نہیں سمجھ سکے ایک طرف تو اس کا اتنا بڑا جرم دوسری طرف اس پر اتنی بڑی نوازش کر ڈالی وہ بزرگ کہنے لگے کہ اس شخص کا گن ا ہ اللہ پاک کو اتنا سخت ناپسند تھا کہ اللہ نے اس کو ہر صورت سزا دینی تھی اللہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ تو بہ کرلے اور اس کو معافی مل جائے۔ اس لیے اللہ نے اس شخص کو دنیاوی عیش و عشرت میں ڈال رکھا ہے تاکہ وہ تو بہ سے غافل ہو کر مرجائے اور اپنے کیے کی سزا بھگت سکے یہ کہہ کر قبرستان والے بابا جی نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگے بیٹا دنیا میں تو بہ کرنے کی توفیق کسی کسی کو ملتی ہے ۔ جس کو اللہ تو بہ کی توفیق نا دینا چاہے اس کو دنیا کی خوشیوں اورعیش و عشرت میں ڈال کر تو بہ سے غافل کردیتا ہے میں نے بابا جی کی نصیحت دماغ کی گہرائی میں بٹھا لی اور کتابیں اٹھا کر گھر کو روانہ ہوگیا ۔

Share

About admin

Check Also

تئیس سالہ پاکستانی نوجوان کی 65سالہ گوری سے شادی لیکن دراصل دولہا رویا کیوں ؟ خود ہی کھل کر بول پڑا

سوشل میڈیا سے دوستی پروان چڑھنے کے بعد ایک اور غیرملکی خاتون پاکستانی نوجوان سے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com